Saturday, 11 October 2014

VIP culture: 'Those who ride motorbikes may be shot dead'

Back in 1965, Abida Riaz, better known by her stage name 'Neelo', tried defying the orders of a VIP.

The governor of West Pakistan, Nawab of Kalabagh and a man with a thousand other titles to his credit – ‘Malik Amir Muhammad Khan Awan’ summoned her to dance privately for a party hosted in honour of the Shah of Iran, Light of the Aryans, and a man with a thousand other titles to his credit – ‘Muhammad Reza Shah Pahlavi’.

Neelo refused to comply.

The governor then sent his private guards to lift her from the safety of her house to do as ordered – dance on the commands of the inheritors of the world, like the poor of the wretched realm do.

Abida tried committing suicide en route, the only dignified response available to the lowly. The attempt saw her being taken to the hospital, where she was saved and spared the agony of 'mujra', though she was bedridden for quite some time.

Reminding her of her duty and her status in the world, Jalib wrote:

Tu k nawaqif adab-e-ghulami hai abhi
Raqs zanjeer pehn ker bhi kia jata hai

['You, that are unaware of the etiquette of slavery - know that slaves dance even in chains']

One would think that 49 years later people would have learned their lessons. But no, this nation is as obstinate and unchanging as they come.

Also read: 'If you are not a VIP, you are unworthy of criticising a VIP'

They think they can take out a few rallies out here and there, raise a few slogans against the panjandrum, throw a couple of ministers off an airplane, and voila - VIP culture has ended.

Not so easy, sire.

In lawless countries, power is the only legal principle. There's no hypocrisy in sentencing the poor for the same crimes for which the rich would not have served a single day. Must we be reminded time and again that against our idealistic whims and wishes, the lords of the world walk free, every time?

To remind you:

What transpired in the bakery-beating case, incriminating Ali Imran Yousaf (Shahbaz Sharif’s son in law)?

What happened in the Shahzeb murder case?

They walk free because the law has loopholes. They go scot-free because they can afford to.

They are freed because the poor are somehow the only ones who take Diyat, falling for the lofty ideals of ‘Fi Sabilillah’ (more often than not, it is an offer which cannot be refused).

The rich and powerful are exonerated because the evidence is always smudged, and the witnesses either turn hostile or refuse to testify at all (no points for guessing why).

The proletarians cross the drawn lines, and then the patricians, rightly, put them back in place. Thus, good on you Abdul Qadir Gilani, for reminding Malik Tahir and the like, that the commoner ought not to overtake the cruisers of VIPs.

Faiz Ahmed Faiz would have scoffed:

Yeh galion ke awara bekar kuttay
K bakhsha gya jin ko zoq-e-gadai
Zamanay ki phitkar sarmaya in ka
Jahan bhar ki dhutkar in ke kamai

[These useless stray dogs (refers to working classes), which were born mendicant, inherit only the drubbing of the society, and earn merely the chastisement of the world.]

Good on you, Mr Gilani, that you reminded the underclasses of this place of theirs, in a truly fitting manner.

Next, the influential should lobby for a law analogous to the ignominious crawling order of General Dyer. Unlike the General’s orders which were restricted to a single street, though, this law must order all plebs to start crawling as soon as they see a VIP.

This would serve as a potent reminder to the nation that they were never truly liberated.

In his defence, Abdul Qadir Gilani may have been a little over-paranoid, extra-cautious after his brother’s abduction.

Tahir, meanwhile, forgot that in Pakistan, debates of reasonable response or sanity take a backseat where the VIP are concerned.

Know more: Aggrieved family wants Qadir Gilani behind bars

The naysayers may question if this 'VIP justice' was the only viable option. They will haggle over the various details of the incident and intricacies of law.

Was Gilani present in the vehicle?

Isn't the guard solely to blame? Isn't his confession enough?

If this is standard protocol, shouldn't the blame lie with the motorcyclist who "irritated the guards"?

The truth is, these questions are too petty to ask.

Only a single person was murdered, just one son of a lesser God; an insignificant number from an undistinguished heritage in the Pakistani game of death sums; to infuse such a valuable lesson – don’t let the western ideals, or even Islamic ones, pollute your minds.

It's ideals like these which caused David Cameron, Prime Minister of United Kingdom, to be thrown out of the hospital wards by a concerned surgeon for not observing hygiene protocols.

To think we can do the same to our PM – what rubbish.

To think one was emancipated merely because he had heard a certain discussion about it in the media, and seen the defenders of human rights get some talk-time – what gibberish.

To think we had inherited 'democracy', the saviours of which were going hoarse in the recent past in assemblies, of true American form – what absurdity.

Sunday, 28 September 2014

Historic times in Pakistan, the whole country is united for Change! Today's Jalsa is going to break all previous records.

This was supposed to be the day of preparations by PTI officials only, but the people of Lahore came and offered anything they could do to help for the Jalsa. Historic times in Pakistan, the whole country is united for Change! Today's Jalsa is going to break all previous records.

آئی فون یا سپائی فون ، ایپل ڈیوائسز ہر حرکت پر نظر رکھتی ہیں

ایپل کے موبائل فونز میں ایسے خفیہ فنکشن بھی ہیں جو آپ کے ہر سفر کو نوٹ کر لیتے ہیں۔ اس میں یہ تجزیہ کرنے کی خصوصیت بھی ہیں کہ آپ کہاں رہتے ہیں ، اور کہاں کام کرتے ہیں۔

لندن (نیٹ نیوز) برطانوی میڈیا کے مطابق لوگوں کے بارے میں با خبر رہنے کی سہولت ماہرین کے نزدیک بہت زیادہ خطر ناک ہے۔ فریکوینٹ لوکیشن فیچر نام کا یہ فنکشن ان موبائلز میں ایک سال پہلے خاموشی کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔ پھر ایپل حکام کا کہنا ہے کہ اس کا ڈیٹا فون کے مالک کی مرضی کے بغیر ختم نہیں ہو سکتا۔ سمارٹ فونز میں جب جی پی ایس چپس اور میپنگ فنکشن ڈالا گیا تھا تو یہ اپنے مالک کی جاسوسی کرنا شروع ہو گئے تھے۔ ممکن ہے اس جاسوسی کے فنکشن کے کوئی مثبت استعمال بھی ہوں تا ہم کئی ماہرین اس کو مناسب خیال نہیں کرتے ، اور خاص طور پر جب معاملہ ایک حاسد بیوی یا باس کا ہو ، یا پھر پولیس اور انتظامیہ سے متعلق کوئی کام ہو تو یہ ایک مفید آلے کی بجائے خطرناک حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ ادھر ایک ہفتے بعد ہی آئی فون سکس کی بیٹری اور سگنل کے مسائل پر لوگوں نے شکایات کی ہیں۔

Friday, 7 February 2014

صرف تھری جی نہیں، فور جی بھی آرہا ہے پاکستان !!!

صرف تھری جی نہیں، فور جی بھی آرہا ہے پاکستان !!!
حکومت نے تھرڈ جنریشن سپیکٹرم کے ساتھ ہی بیک وقت فورتھ جنریشن سپیکٹرم بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے
تھری اور فور جی سپیکٹرم کے لائسنس کو مارچ میں نیلامی کیلئے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق تھرڈ جنریشن سپیکٹرم موبائل فون پر ہائی سپیڈ وائرلیس نیٹ ورک کے ذریعے فراہم کی جانے والی جدید ترین براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس ہے، اس وقت پاکستان میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے، اس کا نام سیکنڈ جنریشن سپیکٹرم ہے جس کے تحت موبائل فون صارفین کو انتہائی سست ڈاوٴن لوڈنگ سپیڈ دستیاب ہوتی ہے۔تھرڈ جنریشن سپیکٹرم کی سپیڈ 60میگابائٹ فی سیکنڈ جبکہ فور جی سپیکٹرم کی سپیڈ 100میگابائٹ فی سیکنڈ ہوتی ہے۔گزشتہ سال دسمبر کے دوران ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں موبائل فون صارفین کی تعداد بارہ کروڑ 97 لاکھ تک جاپہنچی ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) کے اعدادوشمار کے مطابق وقت ملک کی مجموعی آبادی کا بہتر فیصد حصہ موبائل فون سے استفادہ کر رہا ہے۔موبائل فون صارفین کی کثیرتعداد کو دیکھتے ہوئے حکومت نے تھرڈ جنریشن سپیکٹرم کے ساتھ ہی بیک وقت فورتھ جنریشن سپیکٹرم بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں فراہم کی جانے والی ٹیلی کام کی سہولیات دستیاب ہوجائیں گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مارچ میں اس جدید ترین ٹیکنالوجی کی نیلامی شفاف طریقے سے مکمل ہوگئی تو یہ پاکستان کے سماجی اور معاشی شعبوں میں انقلاب برپا کردے گی۔

Thursday, 9 January 2014

دہشت گردوں کے لیے موت کی علامتSSP CID CH.Asalam Shaeed

دہشت گردوں کے لیے موت کی علامت سمجھے جانے والے ایس ایس پی چودھری اسلم کراچی میں عیسیٰ نگری کے قریب دھماکے میں شہید ہو گئے ہیں۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے سیاحتی شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے چوہدری اسلم کا اصل نام محمد اسلم خان ہے۔ ان کا تعلق نہ تو پنجاب سے تھا اور نہ ہی وہ چوہدری ہیں لیکن لوگ انہیں چوہدری اسلم کے نام سے ہی جانتے تھے جس کی وجہ ان کا لباس اور چال ڈھال تھی۔ چوہدری اسلم کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی کے خلاف اپنی کارروائیوں کی وجہ وہ ان کے سب کے بڑے دشمن قرار دیے جاتے تھے۔ چوہدری اسلم نے 1984 میں سندھ ریزرو پولیس میں بطور اسسٹنٹ سب انسپکٹر ملازمت اختیار کی تھی۔ 1991 میں وہ انسپکٹر کے عہدے پر پہنچے اور پہلی مرتبہ کلا کوٹ تھانے کے ایس ایچ او کی ذمہ داریاں سنبھالی جبکہ 1994 میں گلبہار تھانے کے ایس ایچ او تعینات ہوئے ۔ کے ای ایس سی کے ایم ڈی شاہد حسین کے قاتلوں کی گرفاتری کے بعد انہیں 1999 میں ڈی ایس پی کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ 2005 انڈر ورلڈ ڈان شعیب خان کی گرفتاری کے بعد انہیں ایس پی کے عہدے پر تعینات کر دئے گئے انکی شہرت لیاری ٹاسک فورس کا سربراہ مقرر ہونے کے بعد حاصل ہوئی۔ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف انیس سو بانوے اور چھیانوے کے آپریشن میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ 2008 میں انہوں نے بحیثت سربراہ انویسٹی گیشن سیل سی آئی ڈی سول لائن کام شروع کیا۔ 2010 میں انہوں نے انسداد دہشت گردی سیل کے سربراہ کی حیثیت سے دوبارہ سی آئی ڈی جوائن کیا ۔ لیاری کے جرائم پیشہ گروہ کے سرغنہ اور کالعدم لیاری امن کمیٹی کے سربراہ رحمان ڈکیت سمیت متعدد سرکردہ جرائم پیشہ افراد انہیں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ان پر ماورائے عدالت قتل کے بھی کئی الزامات لگائے گئے۔ البتہ ان الزامات کی تحقیقات کے بعد انہیں بےقصور قرار دیا گیا ۔ چودھری اسلم کا شمار سندھ میں جرائم پیشہ افراد کے سروں کی سب سے قیمت وصول کرنے والے افسران میں شمار ہوتا تھا۔ چوہدری اسلم پر یہ چوتھا حملہ تھا اس سے قبل ان کی رہائش گاہ پر 19 ستمبر 2011 میں بھی حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 8 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا اس حملے کی ذمہ داری بھی کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔ چوہدری اسلم کی اعلیٰ کارکردگی پر انہیں پاکستان پولیس کا تمغہ قائڈ اعظم پولیس میڈل اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا.


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...