Friday, 2 June 2017

Lahore to Get a Ropeway chairlift Transit System

Lahore to Get a Ropeway chairlift Transit System: Soon you will be able to take a chairlift to travel across Lahore. Chief Minister (CM) Punjab, Shahbaz Sharif, announced that the city will be getting a new ropeway transport system soon. Feasibili…


Tuesday, 4 April 2017

روشن پاکستان کیلئے اپنا کردار نبھائیے!

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اقبال یہ شعر حقیقاً مجسم ہوکر کبھی آنکھوں کے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں، اُن میں ایسے معصوم محنت کش بھی شامل ہیں، جن کے ننھے ہاتھ اُن کی مشقت و حلال کی کمائی گئی روزی کے گواہ ہوتے ہیں۔
وہ کس قدر محنت سے خود کو منوا رہے ہیں، میری نگاہیں عقیدت و محبت سے جُھک جاتی ہیں، زیرِ لب دعاؤں میں تیزی آجاتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ اُن کے دھوپ میں جلتے سروں پر سایہ بن جاؤں۔ کل جب اسکول کا نتیجہ نکلا تو مائیں بھی موجود تھیں، عُمر کی ماں جو خود بھی تیس سال سے زائد نہ ہوگی فخر سے کہنے لگی،
’’باجی یہ تو اول آجاتا لیکن کچھ میں بھی کام میں مصروف رہتی ہوں اور یہ اسکول کی چھٹی کے بعد مزدوری پر جاتا ہے، اِس لئے جماعت کے سب بچوں میں دوسرے نمبر پر رہا‘‘

عمر کا تعلق ایسے ہی طبقے سے ہے جس کا ہر فرد مزدور ہے۔ ماں باپ، بھائی بہن سب کسی نا کسی کام پر معمور ہیں۔ صبح کی نکلی ماں شام تک گھر آتی ہے، ایسے میں یہ بچے بھی صُبح ماں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں۔
لیکن اچھی بات یہ ہے کہ تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں، باقی اِن کے دیگر اخراجات اور کتابوں اور یونیفارم کا خرچہ اِنہی کیلئے قائم کردہ اسکول یعنی ’’ڈور آف اووئیرنس سینٹر‘‘ نمبر چار کوٹ لکھپت نے بانٹ لیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ 15 مزید اسکول ایسے ہی بچوں کیلئے قائم کر دئیے جہاں پروفیسرز، وکلاء اور ملازمت سے ریٹائرڈ افراد کے علاوہ نوجوان بھی رضا کارانہ طور پر بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔
 بچے ہر اتوار صبح سے شام تک مزدوری کرتے ہیں، اتوار بازار میں جب منڈیوں سے سامان لایا جاتا ہے، اُس سے پہلے ہی یہ سروں پر چھابے اٹھائے قطاروں کی صورت میں پُکارے جانے کے منتظر ہوتے ہیں۔
باری آنے پر اپنے سے بھاری سامان کو سنبھالتے اسٹالوں تک پہنچاتے ہیں پھر شام تک جتنے بھی خریدار آتے ہیں اُن کے ساتھ سروں پر سامان اٹھائے اُن کی گاڑیوں تک انہیں رخصت کرتے ہیں۔ مہذب طریقے سے سلام چہرے پر معصوم مسکراہٹ ہر صاحبِ دل کو اُن کا گرویدہ کردیتی ہے، اور اگر کبھی کوئی سخت مزاج گاہک ٹکرا جائے تو اُن کا خود پر قابو رکھنا قابلِ تعریف ہوتا ہے۔
عمر کے والد بھی مزدور ہیں، شاید چھ افراد کے اِس خاندان کی تنہا ضروریات پوری کرنا اِن کے بس میں نہ تھا، یہ اب تک صرف پاکستان میں ہی رواج ہے کہ ایک کمائے اور سب بیٹھ کر تنگی ترشی پر تنقید کریں۔ ہم میں کچھ بہتر گھرانوں میں رویہ کچھ یوں ہے کہ اِن غریب اور نظر انداز کئے جانے والے علاقے کے بچوں کو جھڑک کر یا کچھ روپے دے کر اپنی ذمہ داری سے فراغت پا جاتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ گھر کو صاف کیا جائے اور گھر کے باہر غلاظت کے ڈھیر علاقے میں تعفن کے لئے چھوڑ دئیے جائیں۔
اِن بچوں کے لئے کچھ مثبت سرگرمیاں بھی تو پیدا کی جاسکتی ہیں؟ میں جانتی ہوں کہ بچوں کی مزدوری قانونی طور پر جرم ہے، بعض اوقات عام مزدور کی نسبت لوگ اِن کو مزدوری کی شکل میں کم رقم دیتے ہیں لیکن اِن کے حوصلے اور ضروریات ایسی ہیں کہ اِن کو مزدوری اور انعام بھی دینے کو دل چاہتا ہے۔
یہ بچے صبح سے شام تک ایک ہزار روپے کما لیتے ہیں، روشن آنکھیں صاف ستھرے مسکراتے چہرے اور مضبوط عزم  و ارادے رکھنے والے ہمارے اسکول کے یہ مزدور طالبعلم اسکول کے اچھے مقرر، اداکار اور فعال افراد ہیں۔ بڑے ہو کر فوج میں جانا چاہتے ہیں اور میری بھی دعا ہے کہ جو خواب وہ دیکھتے ہیں ضرور پورے ہوں۔ عمر اور عمیر کی طرح، جانے کتنے ہی بچے اِس وقت سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اِن کے والدین کم علمی کے باعث اُن کے مستقبل سدھارنے سے قاصر ہیں لیکن ذرا سوچئے! کیا میں اپنے بچوں کی بیس ہزار فیس دیتے وقت چند سو روپے ایک بچے کی تعلیم و تربیت پر نہیں خرچ کرسکتی؟
 جب خود مجھے اپنی معاشرتی ذمہ داری کا احساس نہیں تو میرا معاشرے کے دوسرے افراد سے شکوہ کرنا ہرگز نہیں بنتا۔ اِن کے ذہن معصوم ہیں لیکن اِن سے عدم توجہی اِن کی محرومی میں اضافے کا سبب بنے گی جس کے سب یہ عین ممکن ہے کہ یہ بچے غلط طریقے سے ضروریات پوری کرنے کی کوشش شروع کردیں۔ ضروریات اور خواہشات تو اِن کی بھی دیگر بچوں جیسی ہی ہیں۔ اِن کے حالات سدھارنے کے لئے انہیں اپنا بچہ، اپنا مستقبل سمجھنا پڑے گا۔ اگر ایک بار ایسا ہوجائے تو پھر یقین کیجئے روشن پاکستان ہماری
نظروں کے سامنے ہوگا۔
کسی فلسفی نے کیا خوب کہا تھا کہ،
کسی پختہ شخصیت کی اصلاح کی دقت سے بہتر ہے کہ معصوم ذہن اور کم عمر بچے کی بہترین تربیت کی جائے۔
 خدا نے انسان کو اشرف المخلوقات اسی لئے کہا کہ وہ احساس رکھتا ہے، رب کی ہر صفت کا وارث اِس دنیا میں رب کا موجودہ نائب، اتنے القاب و اختیارات کے بعد ہماری ذمہ داری بھی تمام مخلوقات عالم کی نسبت دوہری ہیں، اور جب یہ سوچ بیدار ہوجائے گی، تو ان شاء اللہ وہی دن عمل کا پہلا دن ہوگا۔
یہی جنوں کا یہی طوق و دار کا موسم
یہی ہے جبر یہی اختیار کا موسم

Sunday, 2 April 2017

سرگودھا میں دربار کے متولی نے ساتھیوں کی مدد سے 20 افراد کو قتل کردیا

سرگودھا: نواحی علاقے 95 شمالی کی درگاہ علی محمد گجر میں دربار کے متولی نے ساتھیوں کی مدد سے 20 افراد کو تشدد کر کے قتل اور 4 کو زخمی کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سرگودھا کے نواحی علاقے 95 شمالی کی درگاہ علی محمد گجر کے متولی عبدالوحید نے ساتھیوں کی مدد سے 20 افراد کو قتل کردیا۔ قتل ہونے والوں میں سے 16 افراد کا پوسٹ مارٹم کر کے لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں، مرنے والوں میں 10 مقامی، 2 اسلام آباد، ایک لیہ، ایک پیر محل کا شہری شامل ہے۔
واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے درگاہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ درگاہ کا متولی عبدالوحید مریدین کو برہنہ کر کے دھمال ڈلواتا اور ان سے کہتا کہ اس طرح مریدین گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر سرگودھا لیاقت علی چٹھہ کا کہنا تھا کہ درگاہ کے متولی نے مقتولین کو پہلے نشہ آور چیز کھلا کر بے ہوش کیا اور پھر انہیں چھریوں اور ڈنڈوں کے وار سے قتل کر دیا، جاں بحق افراد میں 4 خواتین اور 16 مرد شامل ہیں جب کہ 2 خواتین سمیت 4 افراد زخمی ہیں، واقعے کی اطلاع متولی کے تشدد سے بچ کر اسپتال پہنچنے والی خاتون نے دی۔
لیاقت علی چٹھہ کا کہنا تھا کہ  دربار کے متولی عبدالوحید اور درگاہ کی صفائی کرنے والے نوید سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق گرفتار عبدالوحید خود کو اعلیٰ پائے کی روحانی شخصیت کہتا تھا اور الیکشن کمیشن کا ملازم ہے۔
دوسری جانب ترجمان الیکشن کمیشن کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ عبدالوحید کا ادارے سے کوئی تعلق نہیں، وہ الیکشن کمیشن کا سابق ملازم اور لاہور میں تعینات تھا تاہم عبدالوحید نے ایک سال قبل الیکشن کمیشن سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

Saturday, 1 April 2017

تم کرتی ہی کیا ہو؟

یہ جو کچھ بھی ہے، میری وجہ سے ہے، میں نے دن رات تمہارے اور بچوں کے لئے ایک کیا۔ محنت کی، مشقت کی، لوگوں کی باتیں سنیں، صبح منہ اندھیرے گھر سے نکلا تو رات کو منہ اندھیرے گھر پہنچا۔ نہ دن دیکھا نہ رات۔ اِس گھر کے لئے، تمہارے لئے اور بچوں کے لئے اپنی زندگی کے بہترین دن وقف کردئیے۔ تمہیں ہر ہر آسائش دی، اچھے سے اچھا کھانا، اچھے سے اچھا پہننا، آج تم لوگ جو ’خواجہ اینڈ سنز گروپ آف کمپنیز‘ پر اتراتے ہو یہ ایسے ہی دنوں میں نہیں ہوگیا اِس میں میری ایک ایک لمحے کی فکر، سوچ اور کوشش شامل ہے، میری دور اندیشی اور وژن شامل ہے، پر تمہیں کیا معلوم کہ پیسہ کمانا آسان نہیں ہے۔
اور تم ۔۔۔
تم آج کہہ رہی ہو کہ ’خواجہ صاحب! آج آپ کا یہ جو مقام و مرتبہ ہے میری وجہ سے ہے؟‘
تمہارا کردار ہی کیا ہے؟ جھاڑو پونجھا لگانا کونسا مشکل کام ہے؟
ویسے بھی گھر کی صفائی، کپڑے دھونا، استری کرنا، صبح کا ناشتہ بنانا، یہ سب کام تو فضلاں کرتی ہے، خواجہ رفیق الزماں نے ناشتہ ٹیبل پر ہی چھوڑا، ہینڈ بیگ لیا اور دروازہ زور سے پٹخ کر آفس چل دئیے۔
خواجہ رفیق الزماں میرے والد، ایک کامیاب بزنس مین، کاروباری حلقوں میں جن کا طوطی بولتا ہے۔ شائستگی، کلام کی عمدگی اور معاملہ فہمی جن پر بس ہے۔ نوجوان جن سے متاثر ہو کر کاروباری گر سیکھنے آتے ہیں۔ خواجہ اینڈ سنز گروپ آف کمپنیز کے مالک، جن کا کاروبار ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔
اُنہیں ہم نے کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا لیکن آج میری والدہ مہرالنساء نے ناشتہ کی میز پر مذاق میں یہ کہہ دیا کہ،
’خواجہ صاحب! آج آپ کا یہ جو مقام و مرتبہ ہے میری وجہ سے ہے‘
یہ کہنے کی دیر تھی اور بس اُن کا ردِعمل ہم سب کے لئے حیرت انگیز تھا۔ میری والدہ مہرالنساء نے یہ الفاظ خوش مزاجی میں کہے مگر ابو پر جیسے قیامت بن کر گرے، پھر جو کچھ انہوں نے کہا وہ سب امی نے خاموشی سے سُنا، وہ چپ رہیں آگے سے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ بس دو آنسوؤں کے قطرے اُن کی آنکھوں سے نکلے اور لڑھکتے ہوئے اُن کے دوپٹے میں جذب ہوگئے۔
ابو آفس جاچکے تھے، بھائی کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ امی نے ناشتے کی میز سے برتن سمیٹے، کچن میں رکھے اور اپنے کمرے میں چلی گئیں، میں اِن کی حالت کو سمجھ سکتی تھی کہ اُن پر یہ الفاظ ’تم کرتی ہی کیا ہو؟‘ قیامت بن کر ٹوٹے ہوں گے۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ آج جو شان و شوکت تھی وہ ابو کی محنت، ذہانت اور کاروباری سمجھ بوجھ کی وجہ سے تھی مگر یہ بھی سچ تھا کہ ابو کی کامیابی کے پیچھے امی کی کوششوں کا دخل تھا۔ آج وہ کامیاب بزنس مین تھے، اُن کا بیٹا لمز سے ایم بی اے میں گولڈ میڈل یافتہ تھا، اُن کی بیٹی کی گھر داری اور تربیت کا ذکر زبان زدِ عام تھا اور اُن کے گھر کی سجاوٹ و صفائی ستھرائی کی اگر سب تعریف کرتے تھے تو یہ سب آنٹی ’’فضلاں‘‘ کے سُگھڑ پن اور سمجھداری کی وجہ سے نہیں بلکہ مہرالنساء کی محنتوں اور سلیقہ شعاری کا نتیجہ تھا۔ مگر جب عمر بھر کی ریاضت کو کوئی ایک لمحے میں رد کردے تو انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے، اُسے اپنی بے وقعتی کا بے پناہ احساس ہوتا ہے، اُسے اپنے گزرے ماہ و سال رائیگاں لگتے ہیں، اُسے اپنی زندگی ایک بوجھ محسوس ہوتی ہے۔ میں چپکے چپکے دبے قدموں امی کے کمرے میں گئی تو امی بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں بند کئے بیٹھی ہوئیں تھیں۔ میری آہٹ محسوس کرکے انہوں نے آنکھیں کھولیں اور آہستہ سے بولیں آؤ عینی بیٹا بیٹھو، میں اُن کے ساتھ لپٹ گئی، میری آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہوگئی، بولیں بیٹا کیوں روتی ہو؟
بیٹا مردوں کو غصہ آتا رہتا ہے مگر ہمیں ہی برداشت کرنا پڑتا ہے تبھی تو گھر بنتے ہیں۔ وہ گھر سے باہر دھوپ، گرمی میں مارے مارے پھرتے ہیں، اچھے بُرے ہر طرح کے لوگوں سے اُن کا واسطہ  پڑتا ہے، پیسہ کمانے کے لئے ٹکے ٹکے کے لوگوں کی باتیں سننا پڑتی ہیں، دن رات ایک کرنا پڑتا ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنی محنت سے کمائے ہوئے پیسے ہم پر خوش دلی سے خرچ کرتے ہیں، ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں، ہمیں احساسِ تحفظ دیتے ہیں، ہمیں تو بس اُن کے پیسے کو طریقے سے خرچ کرنا ہوتا ہے، اُن کی نسلوں کی تربیت کرنی ہوتی ہے۔ میاں بیوی مل کر ہی گھر بناتے ہیں، معاشرہ سنوارتے ہیں۔ بیٹا یہ کسی بھی معاشرے، خاندان کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اُن میں سے کسی ایک کو بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، اگر نہیں کریں گے تو یہ اکائی ریزہ ریزہ ہوجائے گی۔ سب کچھ بِکھر جائے گا، سوائے زندگی بھر کی آہوں کے، کچھ نہیں بچتا۔
مگر امی ہمیں ہی کیوں؟
ہمیں ہی کیوں برداشت کرنا پڑتا ہے؟ ہر بار عورت ہی کیوں قربانی دے؟
مرد کیوں گھر کے لئے قربانی نہیں دیتا؟
دیکھو بیٹا! تمہاری ماں ڈگری یافتہ نہیں ہے، بس ابا جی نے نماز کے سبق اور قرآن پاک کی تعلیم گھر پر دی تھی مگر تمہاری نانی نے میری تربیت بہت اچھی کی، وہ کہتی تھیں مہرالنساء دیکھ مرد کو اللہ تعالیٰ نے کمانے کی ذمہ داری دی ہے وہ تمہارے کھانے پینے، کپڑے لتے، تمہاری چھت کا ذمہ دار ہے اور اِن ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے ہر طرح کی قربانی دیتا ہے مگر اپنے بیوی بچوں کو گرم ہوا نہیں لگنے دیتا، کسی کو آنکھ اٹھا کر اپنے گھر والوں کی طرف نہیں دیکھنے دیتا۔
جبکہ عورت کو اللہ تعالیٰ نے گھر کی ذمہ داری دی ہے، اُسے اپنے شوہر کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا ہوتا ہے، اُسے اُس کی دلجوی کرنی ہوتی ہے، وہ پریشان ہو تو اُس کی ہمت بندھانی ہے، اُسے دنیا والوں سے مقابلہ کرنے کے لئے دوبارہ کھڑا کرنا ہوتا ہے، اُس کی عزت کی حفاظت کرنی ہوتی ہے، اُس کی اولاد کی بہتر پرورش کرنی ہوتی ہے اور مہرالنساء یہ سارے کام آسان نہیں ہیں۔ خدا تخلیق کار ہے تو ماں میں بھی اُس نے ایک تخلیق کار کی صفات رکھی ہیں، وہ نو ماہ تک بچے کو اپنے پیٹ میں سنبھالے پھرتی ہے۔ اُس کے جنم پر درد سہتی ہے، اُس کی اِس کی ایک ایک قلقاری اور ایک ایک چیخ پر لوٹ پوٹ ہوتی ہے، وہ اِس کے بات کرنے تک ڈھیروں باتیں کرتی ہے، بچہ چلنے تک ہزاروں بار لڑکھڑاتا ہے تو وہ ماں ہی ہوتی ہے جو اُسے چلنے کے قابل بناتی ہے۔ عینی میں تو ایک بات ہی کہوں گی کہ عورت گھر کے لئے قربانی اس لئے دیتی ہے کہ یہ صلاحیت اِس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ ہے، تو جو مالک ہوتا ہے، جو ذمہ دار ہوتا ہے وہی قربانی دیتا ہے۔

رب العزت نے ہمیں یہ ہمت دی ہے، برداشت کی طاقت دی ہے، تو یہ اُس کا کرم ہے۔ باقی جو خواتین گھر کے معاملے میں قربانی نہیں دیتیں وہ نہ صرف اپنی زندگی تباہ کردیتی ہیں بلکہ اپنی نسلوں کو بھی برباد کردیتی ہیں۔ میں نے خواجہ صاحب کو صبح جو کہا وہ غلط نہیں تھا، انہیں اِس بات کا احساس ہوگا ضرور جلد یا بدیر۔
عینی نے سوچا واقعی عورت ایک آرٹسٹ ہوتی ہے، وہ بڑے سلیقے سے ساری کڑیاں جوڑتی ہے، سارے رنگوں کو کینوس پر ایسے پھیلاتی ہے کہ گھر جیسا گلشن بن جاتا ہے، وہ ایک تخلیق کار ہوتی ہے اور تخلیق کار اپنی تخلیق کی گئی جنت کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہوتا ہے۔ اُسے آج جواب مل گیا تھا کہ گھر کے لئے ہمیشہ عورت ہی کیوں قربانی دیتی رہی ہے اور دے رہی ہے۔
خواجہ رفیق الزماں ناشتہ کی ٹیبل سے غصہ میں جب گاڑی کی طرف بڑھے، تو بوڑھا فضل حسین بھانپ گیا صاحب کے تیور کچھ ٹھیک نہیں، اُس نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا، صاحب بیٹھ گئے تو اپنی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کردی۔ فضل حسین اُس وقت سے خواجہ رفیق الزماں کے خاندان کے ساتھ وابستہ تھا جب وہ آٹھویں جماعت میں تھے، خواجہ صاحب اُس کا بے حد احترام کرتے تھے، خواجہ رفیق الزماں اُس کے ہاتھوں میں پلے بڑھے تھے۔
بوڑھے ملازم نے پوچھا صاحب طبیعت ٹھیک ہے تو خواجہ رفیق الزماں جیسے پھٹ پڑے، فضل حسین اپنے گھر کے لئے سب کچھ کرو مگر کسی کو احساس ہی نہیں ہوتا۔ آج ’’خواجہ اینڈ سنز گروپ آف کمپنیز‘‘ کا اگر نام و مقام ہے تو وہ میرے دم خم سے ہے، مگر مہر النساء صاحبہ جنہوں نے کبھی گھر سے باہر قدم نہیں رکھا اور جنہیں یہ تک معلوم نہیں کہ ’’خواجہ اینڈ سنز گروپ آف کمپنیز‘‘ کتنے قسم کے بزنس سے وابستہ ہے، وہ بھی کہہ رہی ہیں کہ
’خواجہ صاحب! آج آپ کا یہ جو مقام و مرتبہ ہے میری وجہ سے ہے‘۔
فضل حسین مسکرایا اور معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا، وہ گویا ہوا صاحب جی بات سیدھی سی ہے، اِن ساری کامیابیوں کے پیچھے آپ کی محنت، دیانت اور ذہانت ضرور شامل ہے مگر آپ کو کامیاب بنانے کے پیچھے بیٹی مہرالنساء ہی ہیں۔ جب آپ کو گھر سے بھائیوں نے نکال دیا اور والدین کے ترکے میں سے آپ کو کچھ بھی نہ ملا تو وہ بی بی صاحبہ ہی تھیں جنہوں نے آپ کو کپڑے کا کاروبار کرنے کا کہا تھا، پھر اپنا زیور بیچ کر آپ کو چھوٹی سی دوکان بنانے میں مدد کی اور ہر مشکل گھڑی آپ کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔ آپ کے پاس وقت نہیں تھا مگر انہوں نے بچوں کی بہترین تربیت کی، رشتہ دار جو آپ سے بیر کھاتے تھے اُن کے ساتھ تعلقات بنائے، آپ کو خاندان میں دوبارہ ایک عزت ایک مقام دلوایا۔ یہ باتیں مجھے نہیں کرنی چائیے، مگر آپ کو میں نے اپنے ہاتھوں پالا پوسا ہے اِس لئے یہ ضرور کہوں گا یہ مسئلہ آپ کا اور بی بی صاحبہ کا نہیں بلکہ ایک ’کمانے والے‘ اور ایک ’گھر چلانے والے‘ کا ہے۔
صاحب جی! لوگوں کی نظروں میں کمانے والا ہوتا ہے، اُسی کی کوششیں ہوتی ہیں، اُسی کی قربانیاں ہوتی ہیں مگر گھر چلانے والے کی قربانیاں صرف کمانے والے کو معلوم ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ کمانے والا تعریف و توصیف کے اُس درجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کی نظر میں گھر چلانے والی ہستی کی اہمیت کم ہونا شروع ہوجاتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ اِس کی ساری عمر کی ریاضت کو ٹھکرا دیتا ہے حالانکہ اُسے دنیا کی نہیں صرف اُسی کمانے والے کی ستائش کی ضرورت ہوتی ہے۔
خواجہ رفیق الزماں نے جب فضل حسین کی باتیں سنیں تو دل ہی دل میں شرمندہ ہوئے، اُنہیں مہرالنساء کی وہ تمام قربانیاں، وہ گھر کے لئے کی گئی محنت، سب کچھ اُن کی نظروں کے سامنے گھومنے لگا۔ اِنہی خیالوں میں وہ آفس پہنچے تو اُس وقت تک اپنی ساری زندگی اور اُس میں مہرالنساء کے کردار کا احاطہ کرچکے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں اُن کا بیٹا خواجہ وحید الزماں بھی آگیا، اُس کے اٹھنے بیٹھنے اور بات کرنے کے ہر انداز میں اُس کی ماں کی جھلک تھی۔ وہ بتانے لگا کہ اُس کا وزٹ بہت کامیاب رہا اور ماشاء للہ امی کی دعاؤں سے ڈیل فائنل ہوگئی ہے۔
خواجہ صاحب جو آفس آتے ہی کام میں لگ جاتے تھے آج گم سم بیٹھے تھے۔ دن گیارہ بجے خواجہ وحید الزماں کو ساتھ لیا مہرالنساء کے لئے شاپنگ کی اور سیدھے گھر پہنچ گئے۔ عینی بھائی اور ابو کو آج اتنی جلدی گھر پر دیکھ کر حیران رہ گئی۔

خواجہ صاحب اپنے کمرے میں گئے، مہرالنساء سے نظروں ہی نظروں میں معافی مانگی اور ساڑھی اُن کے سامنے رکھ دی۔ مہرالنساء کا چہرہ ایسے کِھل اُٹھا جیسے کسی نے ٹین ایج میں اظہارِ محبت کیا ہو۔ جب دونوں باہر آئے تو باغ و بہار ہو رہے تھے۔ خواجہ وحید الزماں والدہ سے لپٹ گئے اور عینی دھیرے سے مسکرا دی۔
شام کے وقت پاکستان مونومنٹ سے پورا اسلام آباد ساون کی برکھا رُت میں اجلا اجلا لگ رہا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور جواد عینی سے پوچھ رہا تھا اب ایم بی اے کے بعد تمہارا کیا ارادہ ہے؟
    عینی نے دور وسعتوں میں کھوئے ہوئے جواب دیا ’’آرٹسٹ‘‘ بننے کا

Thursday, 30 March 2017

ماروی میمن کو برطانوی دارالعوام کے اسپیکرز ڈیموکریسی ایوارڈ سے نواز دیا گیا

  برطانوی دارالعوام کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ماروی میمن کو اسپیکرز ڈیموکریسی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
برطانوی دارالعوام کے اسپیکرجون بیر کونے اپنے بیان میں کہا گزشتہ سال 8 ستمبر 2016 کو انھوں نے اسپیکرز ڈیموکریسی ایوارڈ کے اجرا کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ایسی شخصیات کی نشاندہی کرنا تھا جنھوں نے معاشرے کی بہبود اور سماجی تبدیلی کیلئے کام کیا ہو یا انفرادی طور پر جمہوریت کی صحیح معنوں میں ترجمانی کی ہو۔ اس تناظر میں ہمیں دنیا بھر سے عمدہ نامزدگیاں موصول ہوئیں۔
                            
                             
Source

Tuesday, 17 January 2017

needed Intelligence sharing on global level to combat terrorism Gen Raheel Sharif

Former army chief General (retd) Raheel Sharif said 2016 witnessed a significant decrease in terrorism and that "intelligence sharing is a very important component of strategy to combat terrorism."
Pakistan bears tragedies such as the Army Public School (APS) because of terrorism, he added. "However, we can not take such negative measures against terrorists like they do."


Addressing a session at the World Economic Forum (WEF) titled 'Terrorism in the digital age', he said: "Terrorism is a global issue and the global community will have to get united if it wants to defeat terrorism."

Talking in reference to the achievements of Pakistan Army in fighting terrorism, he said the military cleared 8,000 square kilometres area after recapturing it from militant control. He apprised the gathering that tens of thousands of affected people were rehabilitated in the area.

Raheel Sharif went on to say that terrorism has become a "gangrene for the world". He added that terrorists attack in a well planned manner and intelligence sharing is a very important component of strategy to combat terrorism.


LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...